ابنا: وزارت خارجہ کے ایک اعلی عھدیدار حسین امیر عبداللھیان نے بحرین میں ایمرجنسی کےخاتمے کو مثبت اقدام قراردیتےہوئے کہا کہ بحرین کے مسائل ملت بحرین کے داخلی امور میں شامل ہیں اور بیرونی افواج سے بحران میں مزید پیچیدگی آے گي ۔ انہوں نے بحرین کی خود مختاری اور قومی حاکمیت پرتاکید کرتےہوئے کہا کہ بیرونی افواج جو اس ملک میں بدامنی کا سبب ہیں انہیں بحرین سے نکل جانا چاہیے اور عوام کے مطالبات پرسنجیدگي سے توجہ کی جانی چاہیے جو کہ پرامن طریقوں سے پیش کئےجارہےہیں۔ بحرین کے بادشاہ نے بدھ کر ایمرجنسی ہٹانے کا اعلان کیا ۔ یادرہے عوام کے احتجاج کےپیش نظر بحرینی حکومت نے پندرہ مارچ سے ایمرجنسی نافد کردی تھی ۔ادھر بحرین کے ایک انقلابی رہنما ابراہیم المدھون نے کہا ہےکہ آل خلیفہ کی حکومت بین الاقوامی اداروں میں اپنے کو اچھا بناکر پیش کرنے کی کوشش کررہی ہےاور اس طرح عالمی رائے عامہ کو فریب دے رہی ہے۔ جمعیت وفاق ملی بحرین کے سینئر رکن ابراہیم المدھون نے العالم سے گفتگو میں کہا کہ آل خلیفہ مخالفین سے مذاکرات کرنےمیں سنجیدہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ولی عھد کے ساتھ مذاکرات بغیر ضمانت کے بے سود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مذاکرات کس بنیاد پرہوں جبکہ انسانی حقوق مرکز کے سربراہ نبیل رجب، جمعیت وفاق ملی کے سربراہ شیخ علی سلمان اور پارلمنٹ کے تین ارکان کو انٹلجنس نے وارنٹ جاکرکے تفتیش کے لئے بلایا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ خود آل خلیفہ کی حکومت بحران کا باعث ہے اور حکومت نے تشدد آمیز پالیسیوں کےذریعے حالات بحرانی بنادئےاور مذاکرات کے لئے مخالفیں کی کوئي شرط تسلیم نہ کی۔ انہوں نے کہا کہ آل خلیفہ نے اب جبکہ ان کے جرائم برملا ہوچکےہیں مذاکرات کی پیش کش کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مذاکرات کے لئے ضروری ہےکہ سیاسی قیدیوں کو رہا کیا جائے، جن ملازمیں کو برطرف کیا گیا ہےانہیں بحال کیاجائے اورطلبا کو دوبارہ تعلیمی مراکز میں لیا جائے اور سعودی عرب کی جارح افواج ملک سے نکل جائيں۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/169
اہم: اس پٹیشن کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے 10 لاکھ ووٹوں کی ضرورت ہے مگر کیا کیا جائے کہ ابھی تک چالیس ہزار افراد نے بھی ووٹ نہیں دیا۔ فارورڈ کریں امام زمانہ (عج) کے صدقے۔ پلیز